ایک سوال ہمیشہ میرے ذہن میں رہا ہے

ایک سوال ہمیشہ میرے ذہن میں رہا ہے کے اگرخواتین اپنے شوہروں یا محبوب کے ساتھ بالکل ویسا ہی رویہ رکھیں جیسا وہ ان کے ساتھ رکھتے ہیں تو کیا ہو گا؟ خواتین رشتے کو بنانے یا بچانے کے لیے اتنی ہی کوشش کریں جتنی ان کے لائف پارٹنر کرتے ہیں ( یعنی زیرو)تو کیا ہو گا؟ 
یا  کوئی جھگڑا اور تنازعہ بالکل ایسے ہی سلجھانے کی کوشش کریں جیسے ان کے پارٹنرز( شوہر) کرتے ہیں جیسے کے خواتین کو کہنا کے تمہیں تو کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ تم تو جاہل ہو۔ سب کے سامنے باتیں سنا دینا، الٹا سیدھا بول دینا ۔نیچا دکھانے کے لیےبلند آواز میں بات کرنا یہ سب اگر خواتین کریں تو کیا ہو گا؟ 
میرے خیال سے نوے فیصد شادیاں ، ریلیشنشپس اور خاندانی نظام ختم ہو جائے گا۔ کیونکہ یہ قائم ہی عورت کی خاموشی اور اس کے استحصال پر ہیں۔ 
تو اس کا کیا مطلب ہوا ؟ کے ہمارے ریلیشنشپس اور ٹاکسک خاندانی نظام صرف اس وجہ سے چل رہے ہیں کے خواتین نے اپنا آپ مار دیا ہے۔ 
ہماری اپنی ویلیو ختم کر دی ہے اپنی خواہشیں، اپنی عزت نفس سب ڈسٹ بن میں ڈال دیا ہے۔ 
صحت مند رشتے وہ ہوتے ہیں جہاں عزت اور رتبہ باہمی ہوتا ہے دونوں برابر ہوتے ہیں۔ اگر ایک غصہ کرتا ہے تو دوسرا بھی کر سکتا ہے۔ یہ نہیں کے مرد کا غصہ سہہ لیا جائے گا یا امید رکھی جائے گی کے سہہ لو لیکن عورت غصہ کرے تو کہا جائے کے کتنی گھٹیا عورت ہے۔ گھر تباہ کرنے والی ہے۔ کتنی بدتمیز ہے شوہر کو عزت نہیں دے سکتی۔ 
اگر سب کچھ سہنے اور قربانیاں دینےکی امید ایک ہی انسان( عورت) سے رکھی جائے اور سب کچھ کرنے کی آزادی ایک ہی فرد( مرد)  کو ہو تو یہ برابری کا تعلق نہیں ہے ۔ رشتے میں توازن نہیں بلکہ سارا وزن مرد کے پلڑے میں ہے۔ 
اگر خواتین اپنے شوہر یا محبوب سے بغیر کسی بھی ڈر کے دل کی بات نہیں کر سکتیں جیسے شوہر اپنی بیویوں سے کر سکتے ہیں تو یہ رشتہ ڈر کی وجہ سے قائم ہے محبت اور عزت کی وجہ سے نہیں۔ 
بیویوں کو ڈرا کر رکھنا، اگریشن اور غصہ دکھانا ، انہیں کنٹرول کر کے رکھنا ان پر پابندیاں لگانا محبت نہیں ہے ۔ 
میاں بیوی کے تعلق میں اگر بیوی یا شوہر خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے تو یہ زندہ رہنے اور زندگی گزارنے کا ایک بہت ہی خوفناک طریقہ ہے۔ اور یقین مانیں نوے فیصد عورتیں اپنے ہی گھر کے مردوں سے چاہے وہ بھائی ہوں، باپ ہوں ، بیٹے ہوں یا شوہر سب سے خطرہ محسوس کرتی ہیں۔ ڈرے بغیر اپنی رائے بھی نہیں رکھ سکتیں۔
مرد کی طرح کھل کر اپنی رائے رکھنے والی یا جھگڑے کا اور بدتمیزی کا منہ توڑ جواب دینے والی عورت کو ہمیشہ زبان دراز کا نام دیا جاتا ہے۔ اور کہا جاتا ہے قینچی کی طرح زبان چلتی ہے۔ اور ہاتھ اٹھانے کوزبان چلنے سے جواز فراہم کیے جاتے ہیں۔ کے زبان چلے گی تو ہاتھ تو اٹھے گا ہی لیکن کوئی یہ کبھی نہیں پوچھتا کے مرد کے زبان چلنے ہر بھی ہاتھ اٹھانا ٹھیک ہے یا نہیں؟  
سچے اور محبت بھرے رشتوں میں کوئی بگڑا ہوا طاقت کا توازن نہیں ہوتا۔ باہمی محبت اور باہمی عزت دی جاتی ہے کوئی کسی پر حاکم نہیں ہوتا۔ 
لیکن دنیا بھر میں اور خاص طور پر دیسی اور مذہبی معاشروں میں اگر عورت یہ امید رکھے کے اسے باہمی عزت اور محبت پر مبنی رشتہ اور شوہر چاہئے تو دنیا کی نظر میں یہ غیر حقیقی اور بہت ہی ایکسٹرا ڈیمانڈ ہے۔ لیکن یقین مانیں یہ تو صرف کم سے کم ہے جو آپ رشتے میں چاہ سکتے ہیں۔ یہ تو شادی اور ریلیشنشپس کی بنیادی سی شرط ہے۔

اور مرد وہ بھی نہیں دے سکتے۔ 

Post a Comment

0 Comments